بادشاہ وقت


 

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا ایمان افروز واقعہ 


عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس ایک عورت آئی جس کی پانچ جوان بیٹیاں تھی خاوند فوت ہو چکا تھا وہ جس کے پاس جاتی سب خوش آمدید کہتے لیکن یہ خوش آمدید اس کے لیے نہیں تھی اس کے غریبی کے لیے نہیں تھی اسکی خوبصورت جوان بیٹیوں پر گندی نظر ڈالنے کے لیے ہوتی ۔

سمجھدار عورت تھی بہت جلد سمجھ گئی کہ میرے لیے جوان بیٹیوں کی عزت بچانا مشکل ہے تو وہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے دروازے پر آئی دستک دی ،کسی نے بتایا تھا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ ایسا بادشاہ ہے کہ وہ آپکی جان و مال کا محافظ ہے وہ آپکی مدد کرے گا ۔

ایک عورت نے دروازہ کھولا وہ اندر گئی ایک عورت برتن دھو رہی تھی وہ سمجھی کوئی خادمہ ہے اس نے اسے ایک درحت کے نیچے بٹھایا۔

عورت نے پوچھا امیر المومنین کہاں ہے؟

 اتنے میں ایک آدمی اندر آیا جس کے کپڑے پٹھے ہوئے تھے اور کندھے پر ایک گٹھلی تھی، وہ گٹھلی اس عورت نے لے لی ۔

وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا تو وہ عورت سوکھی روٹی اور سرکہ لے آئی وہ عورت سمجھی کوئی غلام  ۔جب وہ کھانا کھا چکے تو اسی عورت نے آواز دی کہ امیرالمومنین مہمان آئے ہیں۔    ہیں  

وہ عورت کہتی ہے میں حیران رہ گئی، میں نے اس خادمہ سے کہا کہ آپ میری غریبی کا مزاق اڑا رہی ہے۔ یہ پھٹے ہوئے کپڑے اور سوکھی روٹی کھانے والا امیرالمومنین ہے تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم یہی امیر المومنین ہے۔

 میں جب ان کے قریب گئی تو اس میں اتنی حیاہ تھی کہ اس نے اپنی نظریں جھکا لی۔ فرمانے لگے کیسے آئی ہو ؟

میں نے کہا یہ میری بیٹیاں ہے میں غریب ہوں، بیوہ ہوں میرے پاس ان کے لیے کچھ نہیں۔


 میرا خیال تھا کہ امیرالمومنین میری تمام بیٹیوں کے لیے سو دینار لکھ دے تو کافی ہے ،اس نے قلم اٹھایا میری ایک بیٹی کے لیے ایک سال کے لیے ایک ہزار دینار لکھ دئیے ۔میں نے دوسری کو آگے کیا اس نے اس کے لیے بھی ایک ہزار دینار لکھ دئیے ،میں تیسری چوتھی کو آگے کیا اس نے ان کے لیے بھی ہزار ہزار دینار لکھ دئیے۔

 

جب وہ لکھ رہے تھے میں اللہ کا شکر ادا کرتی رہی اور جب پانچویں بیٹی کے لیے دینار لکھنے کے لیے قلم  اٹھایا تو میں نے امیرالمومنین کا شکریہ ادا کیا

 نے قلم واپس رکھ دیا۔  امیرالمومنین


میں نے پوچھا امیرالمومنین کیا ہوا تو فرمانے لگے، میں نے چار ہزار دینار  آپکی بیٹیؤں کے لئے لکھے تو آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا، اس دفعہ آپ نے میرا شکریہ ادا کیا، قیامت کے دن اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ ہزار دینا تم نے میرے لیے نہیں لکھے اپنی خوشامدی کیلئے دیئے۔

 میں رونے لگی کہ یااللہ یہ کیسا  انسان ہے۔

 کا غلام ہوں۔ تو عمربن عبدالعزیز کہنے لگے کہ میں عام انسان ہوں بس رسول اللہ